#socialmedia Instagram Story & Photos & Videos

socialmedia - 12m posts

  • 2 weeks ago I lost my favourite jacket at a bar in London. After searching through social media and finding the group sitting on the table next to us (who accidentally picked up my jacket), it has returned to me by a fantastic lady 🙌 (apologies to close friends as I’ve not stopped banging on about this jacket!! #faithinhumanity #powerofsocialmedia #socialmedia #actofkindness #massimodutti
  • 2 weeks ago I lost my favourite jacket at a bar in London. After searching through social media and finding the group sitting on the table next to us (who accidentally picked up my jacket), it has returned to me by a fantastic lady 🙌 (apologies to close friends as I’ve not stopped banging on about this jacket!! #faithinhumanity #powerofsocialmedia #socialmedia #actofkindness  #massimodutti
  •  0  0 10 hours ago

Advertisements

Advertisements

Advertisements

Advertisements

  • Squaaaaaadd! ✔
  • Squaaaaaadd! ✔
  •  1  1 10 hours ago

Advertisements

  • On the third day of Christmas, ewe agency gave to me... The chocolates no one else wants 🙅🏽‍♀️✋🏼 #12daysofewemas
  • On the third day of Christmas, ewe agency gave to me... The chocolates no one else wants 🙅🏽‍♀️✋🏼 #12daysofewemas
  •  6  1 10 hours ago
  •  3  1 10 hours ago

Advertisements

  • 100 دن کے گھوڑے پر فراٹے مارتی تحریکِ انصاف کی قیادت بالخصوص اس کے قائد محترم وزیرِاعظم عمران خان کہیں اپنی حکومت کے 200 یا 400 دنوں بعد اس تاسف کا اظہار تو نہیں کر رہے ہوں گے کہ انہوں نے بھی وہی غلطی کی جو 3 دہائیوں قبل 10 سال کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ’اختیارات‘ لے کر پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو نے کی تھی۔ جنرل ضیاءالحق کی 10 سالہ فوجی آمریت کے بعد آنے والی بینظیر بھٹو اور 2 دہائیوں سے زرداریوں اور شریفوں کی حکومت سے لڑتے لڑتے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ملنے والے اقتدار کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اکثر بلکہ بیشتر باتوں میں بڑی مماثلت ملے گی۔

    نومبر 1988ء میں پیپلزپارٹی کی قائد قومی اسمبلی کی 205 نشستوں میں سے محض 94 نشستیں حاصل کرسکی تھیں۔ سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے انہیں مزید 9 ارکان کی ضرورت تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں میں کھیل کھیلنے والے صدر غلام اسحاق ہماری اُس وقت کی سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی، یوں سارے پتے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھ میں تھے، اور اقتدار کے 2 بڑے ستون یعنی عدلیہ اور فوج بھی ان کے دائیں اور بائیں کھڑے تھے۔

    یہ درست ہے کہ اس وقت نوجوان بھٹو پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں بھی اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے سبب مقبولیت کی آخری حدوں کو چھورہی تھیں، یوں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محترمہ کے مقابل منتشر اپوزیشن کو ترجیح دینا، اتنا آسان نہیں تھا۔ مگر مسئلہ ’بھروسے‘ کا بھی تھا۔ بھٹوز اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج کا پاٹنا اک آگ کے دریا سے گزرنا تھا۔ بینظیر پر ایک بڑا دباؤ برسوں سے تھانے، عدالتیں بھگتنے اور کوڑے کھانے والے جیالوں کا تھا، سو مجبوری دونوں کی تھی۔ مگر بہرحال فوقیت اسٹیبلشمنٹ کو حاصل تھی۔ بھارت کے ممتاز صحافی کرن تھاپر اپنی کتاب Devil's Advocate میں لکھتے ہیں کہ ’لندن میں اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ نومبر 1988ء میں اختیارات کے بغیر اقتدار لینا ان کی غلطی تھی۔‘ #Voiceof98 #awamKiAwaz #voice #awam #newschannel #dailynews #news98 #98news #dailynews #newschannel #socialmedia
  • 100 دن کے گھوڑے پر فراٹے مارتی تحریکِ انصاف کی قیادت بالخصوص اس کے قائد محترم وزیرِاعظم عمران خان کہیں اپنی حکومت کے 200 یا 400 دنوں بعد اس تاسف کا اظہار تو نہیں کر رہے ہوں گے کہ انہوں نے بھی وہی غلطی کی جو 3 دہائیوں قبل 10 سال کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ’اختیارات‘ لے کر پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو نے کی تھی۔ جنرل ضیاءالحق کی 10 سالہ فوجی آمریت کے بعد آنے والی بینظیر بھٹو اور 2 دہائیوں سے زرداریوں اور شریفوں کی حکومت سے لڑتے لڑتے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ملنے والے اقتدار کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اکثر بلکہ بیشتر باتوں میں بڑی مماثلت ملے گی۔

نومبر 1988ء میں پیپلزپارٹی کی قائد قومی اسمبلی کی 205 نشستوں میں سے محض 94 نشستیں حاصل کرسکی تھیں۔ سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے انہیں مزید 9 ارکان کی ضرورت تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں میں کھیل کھیلنے والے صدر غلام اسحاق ہماری اُس وقت کی سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی، یوں سارے پتے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھ میں تھے، اور اقتدار کے 2 بڑے ستون یعنی عدلیہ اور فوج بھی ان کے دائیں اور بائیں کھڑے تھے۔

یہ درست ہے کہ اس وقت نوجوان بھٹو پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں بھی اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے سبب مقبولیت کی آخری حدوں کو چھورہی تھیں، یوں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محترمہ کے مقابل منتشر اپوزیشن کو ترجیح دینا، اتنا آسان نہیں تھا۔ مگر مسئلہ ’بھروسے‘ کا بھی تھا۔ بھٹوز اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج کا پاٹنا اک آگ کے دریا سے گزرنا تھا۔ بینظیر پر ایک بڑا دباؤ برسوں سے تھانے، عدالتیں بھگتنے اور کوڑے کھانے والے جیالوں کا تھا، سو مجبوری دونوں کی تھی۔ مگر بہرحال فوقیت اسٹیبلشمنٹ کو حاصل تھی۔ بھارت کے ممتاز صحافی کرن تھاپر اپنی کتاب Devil's Advocate میں لکھتے ہیں کہ ’لندن میں اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ نومبر 1988ء میں اختیارات کے بغیر اقتدار لینا ان کی غلطی تھی۔‘ #Voiceof98#awamKiAwaz #voice #awam #newschannel #dailynews #news98#98news #dailynews #newschannel #socialmedia
  •  2  0 10 hours ago
  • How to close more deals in 2019! Tip #9

    Vid.Co's Christmas Tips every day leading up to Christmas!

    Like and share if you found this helpful!
  • How to close more deals in 2019! Tip #9

Vid.Co's Christmas Tips every day leading up to Christmas!

Like and share if you found this helpful!
  •  4  1 10 hours ago
  • Zadání: Marketingová strategie a realizace kampaně v rámci spuštění nového eshopu ikiwi.cz.
  • Zadání: Marketingová strategie a realizace kampaně v rámci spuštění nového eshopu ikiwi.cz.
  •  1  1 10 hours ago
  • Don’t need the task of tackling your Digital Marketing? Have your Social Media accounts & websites looked after by • media dock
  • Don’t need the task of tackling your Digital Marketing? Have your Social Media accounts & websites looked after by • media dock
  •  7  1 10 hours ago